یہ کیسے جانیں کہ نجات پانے والوں میں سے ہیں؟ از رہبر انقلاب

امامؑ کے مطابق “ناجی” کون ہے؟

محمد بن سنان مفضل بن عمر سے روایت کرتے ہیں “قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِمَ يُعْرَفُ اَلنَّاجِي؟۔ ان راوی جناب مفضل بن عمر کا امام جعفر صادقؑ سے سوال ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ نجات پانے والوں میں سے ہیں؟۔ اس سوال پہ امامؑ، (نجات ابدی)پاجانے والوں کا معیار بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں “مَنْ كَانَ فِعْلُهُ لِقَوْلِهِ مُوَافِقاً”، جس انسان کا قول اور فعل(کردار)یکساں ہو، وہ نجات یافتہ(ناجی)ہے۔

 

غیر ثابت ایمان رکھنے والا خارج از ایمان نہیں!

(نجات یافتہ انسان کی تعریف کرتے ہوئے)امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ امام نے فرمایا “وَ مَنْ لَمْ يَكُنْ فِعْلُهُ مُوَافِقاً لِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا ذَلِكَ مُسْتَوْدَعٌ”(جس کے قول و فعل میں تضاد ہو)، اس کا ایمان، ایمان محکم و ثابت نہیں ہے۔ امامؑ نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ وہ شخص دائرہ ایمان سے باہر ہے۔ نہیں!

 

غیر ثابت ایمان کی نشانیاں!

(غیر ثابت ایمان رکھنے والے)، ممکن ہے کہ ہم اچھی اچھی باتیں کریں، لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیں، رسول اللہ(ص)کی پیروی کرنا، خشوع و خضوع کرنا، نماز قائم کرنا، زاہدانہ اور باتقوا زندگی بسر کرنا؛ کی طرف دعوت دیں، لیکن عملی طور پہ خود اس مرتبے پہ فائز نہ ہوں، (یعنی)باطن؛ ظاہر سے سازگار نہ ہو۔

 

غیر ثابت ایمان رکھنے والے بھی مومن بن سکتے ہیں!

ایسا انسان(جس کا ایمان غیر ثابت ہو)، امامؑ نہیں فرماتے کہ وہ مومن نہیں ہے، یا نجات یافتہ نہیں ہے۔ بلکہ(شروط و شرائط کے ساتھ مومن بن سکتا ہے)کہ اگر اپنے آپ کو اس عظیم نقطے(ایمان محکم) پہ پہنچانے کے قابل ہوگیا کہ جو باعثِ نجات ہے، تو وہ ناجی(نجات پانے والا)ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرسکا تو مشکلات اور درد سر سے دوچار رہے گا۔

 

 

 

عہد بندگی، رہبر معظم

متعلقہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *